7:33 AM


ڈنمارک: موسمی تبدیلی اجلاس جاری، نو سو مظاہرین گرفتار

کوپن ہیگن کے دارالحکومت ڈنمارک میں پولیس نے موسمی تبدیلیوں پر جاری بین الاقوامی اجلاس کے خلاف مظاہرے کرنے والے نو سو افراد کو زیر حراست لے لیا ہے۔
یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب تیس ہزار افراد نے کوپن ہیگن میں موسمی تبدیلی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے کے مطالبے کے حق میں مارچ کی اور اس مارچ میں مظاہرین نے املاک کی توڑ پھوڑ بھی کی۔
اسی قسم کی مارچ دنیا کے مختلف شہروں میں بھی کی گئیں۔
دوسری طرف اس اجلاس میں شرکت کے لیے وزراء پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ اجلاس ایک ہفتہ اور چلے گا۔
مجوزہ دستاویزات میں دو ہزار پچاس تک خطرناک گیسوں کے اخراج پر پچاس فیصد قابو پانے کی ہدایت کی جائے گی، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو پہلے سے زیادہ حصہ ڈالنا ہو گا یعنی انہیں دو ہزار بیس تک کاربن گیسوں کے اخراج میں کم سے کم پچیس فیصد کمی کرنا ہو گی۔ کوپن ہیگن کانفرنس کی میزبان اور ڈنمارک کی وزیر کانی ہیج گارڈ نے تسلیم کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر مجوزہ دستاوایزات کا متن تاحال جامع شکل اختیار نہیں کر سکا۔
یورپی یونین نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو ساڑھے دس ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جو دو ہزار بارہ تک تین اقساط میں ادا کی جائے گی۔ یورپی یونین کی یہ امداد عالمی پیکج کا حصہ ہے جس پر ڈانمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔

لیکن ترقی پذیر ممالک سند کچھ امدادی تنظیموں نے یورپی یونین کی طرف سے اعلان کردہ رقم کو ناکافی قرار دیا ہے۔
ڈنمارک کی پولیس نے مظاہرین کی تعداد تقریباً تیس ہزار بتائی لیکن اس مظاہرے کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ لوگوں کی تعداد ایک لاکھ تھی۔
مظاہرین چھ کلومیٹر تک مارچ کر کے اس جگہ پہنچے جہاں تمام وزراء اور مذاکرات کار مل رہے ہیں۔ اس مظاہرے میں ہنگامہ آرائی کے بعد جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔ ٹی وی پر دکھایا گیا کہ پولیس گرفتار کیے گئے افراد کو سڑک کے کنارے بٹھا رہے تھے اور ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ ان افراد کو بعد میں بسوں میں بھر کر وہاں سے لے جایا گیا۔
کوپن ہیگن پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انٹیلیجنس معلومات کے مطابق ایک چھوٹے سے گروہ نے یہ ہنگامہ آرائی کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ ’ہمارے خیال میں اگر ہم ان کو گرفتار نہ کرتے تو وہ بہت زیادہ نقصان کر سکتے تھے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کی عمارت کے شیشے بھی توڑے ہیں۔‘
انہوں نے ان خبروں کی تردید کی کہ گرفتار کیے گئے چند افراد کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔
آسٹریلوی سماجی اور سیاسی نیٹ ورک ’گیٹ اپ‘ کے کارکن سائمن شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نہ گرفتاری کا عمل اپنے اپارٹمنٹ سے دیکھا۔ ’پولیس نے سوچے سنجھے منصوبے کے تحت مظاہرین کو گرفتار کیا۔ اس عمل کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ پولیس نے گروہ کی صورت میں لوگوں کو گرفتار کیا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں اور ان کو گرفتار کر کے قریبی سٹور میں لے گئے جہاں ان کو چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم کیا گیا اور پھر لے جایا گیا۔‘
تائیوان یونیورسٹی کی سٹھائیس سالہ طلبہ لِن نے رائٹرز کو بتایا ’یہی صحیح وقت ہے شور کرنے کا اور ان سربراہان کو باور کرانے کا کہ موسمی تبدیلی ایک سنگین مسئلہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہماری آواز ضرور سنیں گے۔‘
کئی نامور شخصیات کا کہنا ہے کہ وہ ان مظاہروں میں شامل ہوں گے جن میں بالی ووڈ اداکار راہول بوس، ماڈل اور فوٹو گرافر ہیلینا کرٹینسن اور اقوام متحدہ کے سابق سفیر برائے انسانی حقوق میری رابنسن شامل ہیں۔

0 comments:

Post a Comment