امریکہ:گرین ہاؤس گیس اخراج کی نگرانی
امریکی حکومت نے گرین ہاؤس گیسوں کو انسانی صحت کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے اور اس اقدام سے امریکہ کی ماحولیاتی بچاؤ کا ادارہ اب کانگریس کی منظوری کے بعیر ہی کاربن اخراج میں کمی کے احکامات جاری کر سکتا ہے۔
ماحولیاتی بچاؤ کے امریکی ادارے ’ای پی اے‘ کی منتظم لیزا جیکسن کا کہنا ہے کہ ان کی ایجنسی کو اب یہ حق حاصل ہے اور وہ پابند ہے کہ مضرِ ماحول گیسوں کے اخراج کی شرح میں کمی کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کرے۔.
امریکی حکومت کی جانب سے یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی اجلاس جاری ہے جس میں کاربن اخراج میں کمی کے معاہدے پر بات ہورہی ہے۔
لیزا جیکسن کا کہنا تھا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے سائنسی شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ گیسیں عام لوگوں کی صحت اور امریکی عوام کی بہتری کے عمل کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 2009 کو تاریخ میں ایسے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب امریکی حکومت نے مضِر ماحول گیسوں کی آلودگی کے چیلنج سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق اس بات کا فیصلہ امریکی حکام نے کئی ماہ قبل کیا تھا لیکن اس کے اعلان کے لیے یہ وقت اس لیے چنا گیا کہ ماحولیاتی اجلاس میں امریکی صدر براک اوباما کی پوزیشن مضبوط ہو جائے اور وہ دنیا کو باور کروا سکیں کہ امریکہ عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس بات کا فیصلہ امریکی حکام نے کئی ماہ قبل کیا تھا لیکن اس کے اعلان کے لیے یہ وقت اس لیے چنا گیا کہ ماحولیاتی اجلاس میں امریکی صدر براک اوباما کی پوزیشن مضبوط ہو جائے اور وہ دنیا کو باور کروا سکیں کہ امریکہ عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
تاہم امریکی صدر ان گیسوں کے اخراج کے معاملے پر امریکی کانگریس سے بھی بل پاس کروانے کے خواہاں ہیں۔ سینیٹر باربرا باکسر اور سینیٹر جان کیری کا حمایت یافتہ یہ بل امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد اس وقت امریکی سینیٹ میں موجود ہے جو اس پر مارچ 2010 سے قبل غور نہیں کرے گی۔.
رواں برس اپریل میں ای پی اے فیصلہ دیا تھا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانچ دیگر گرین ہاؤس گیسیں انسانی صحت اور نشوونما کے لیے خطرناک ہیں۔ بعد ازاں اس فیصلے پر عوامی مشاورت طلب کی گئی جس میں لوگوں کو جواب دینے کے لیے ساٹھ دن کا وقت دیا گیا تھا۔
ای پی اے کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایجنسی کو تین لاکھ سے زائد مشورے موصول ہوئے ہیں اور وہ ان پر کام کر رہی ہے۔


























1 comments:
very quality content..i was looking for this kind of blog...great work.
http://www.cafe4fun.com/islamic/islamic-wallpapers.html
Post a Comment