8:59 PM

انسانی نطفہ

مردانہ جین میں کم عمری درج

نیا نر جین مردوں کی بڑی جسامت کا موجب بنتا ہے لیکن اس کی قیمت انہیں زندگی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے: ماہرین
ایک نئی تحقیق کے مطابق مردوں کے نطفوں میں موجود جین میں ہی ان کی زندگی کے خاتمہ کا کوڈ بھی درج ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کو چوہوں پر تجربات سے ایسے جین کا پتہ چلا ہے جو پایا تو مرد و خواتین دونوں میں جاتا ہے لیکن بظاہر متحرک صرف مردوں میں ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مذکورہ جین مردوں کی بڑی جسامت کا موجب بنتا ہے لیکن اس کی قیمت انہیں زندگی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
ٹوکیو کی زرعی یونیورسٹی میں ہونے والی یہ تحقیق ’ہیومن ریپروڈکشن‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ تحقیق صرف چوہوں پر کی گئی لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بشمول انسانوں کہ یہ تمام دودھ دینے والے جانداروں پر صادق آتی ہے۔
سائنسدانوں نے اس تجربے کے لیے ایسے چوہوں کا مشاہدہ کیا جو دو مادہ چوہوں سے حاصل کیے گئے جین سے پیدا ہوئے تھے اور ان کی پیدائش میں نر چوہے کا عمل دخل نہیں تھا۔ سائنسدانوں نے ایسا چوہوں کے ڈی این میں ضروری تبدیلیاں کر کے ممکن بنایا۔
اس تجربے سے پیدا ہونے والے چوہے، جن کی پیدائش میں نر چوہوں سے مواد بالکل حاصل نہیں کیا گیا تھا، اوسطاً عام طریقے سے پیدا ہونے والے چوہوں کی نسبت تین گنا زیادہ دیر زندہ رہے۔
مادہ چوہوں سے حاصل ہونے والے مواد سے پیدا ہونے والے چوہے جسامت میں چھوٹے تھے لیکن ان کا نظام مدافعت کافی بہتر کام کر رہا تھا۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ عام چوہوں اور تجربے کے دوران پیدا کیے گئے چوہوں میں اس فرق کی وجہ وہ جین ہے جو نر چوہوں سے اگلی نسل تک پہنچتا ہے۔

0 comments:

Post a Comment